غزہ ملبے کا ڈھیر ، 10 ہزار لاشیں اب بھی دبی ہوئی ہیں
Gaza rubble, 10,000 bodies still buried
اسرائیلی فوج نے غزہ کو ایک سال میں ملبے کا ڈھیر بنا دیا، غزہ کے باشندے حیران ہیں کہ لاکھوں ٹن ملبے سے کیسے نمٹا جائے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ غزہ میں جنگ کے بعد 42 ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہو چکا ہے، جو 2008 سے لے کر جنگ کے آغاز تک جمع ہونے والے ملبے کی 14 گنا مقدار ہے۔ملبے کی اتنی بڑی مقدار کو ہٹانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق یہ کام مکمل کرنے میں 14 سال لگ سکتے ہیں۔ملبے میں پوشیدہ لاشیں اور دھماکا خیز بم ایک اور بڑا مسئلہ ہیں۔فلسطینی صحت کی وزارت کے مطابق، تقریباً 10 ہزار لاشیں ابھی تک ملبے میں دبی ہوئی ہیں۔
The Israeli army reduced Gaza to rubble in a year, with Gazans wondering how to deal with the millions of tons of rubble.According to foreign news agency Reuters, the United Nat...

