Wednesday, April 15Contact: 0321-4955559 _____ Newswaraq01@gmail.com

پی آئی اے کو اونے پونے فروخت نہیں کیا جاسکتا: عبدالعلیم خان

PIA cannot be sold outright: Abdul Aleem Khan

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پی آئی اے کو ٹھیک کرنا یا چلانا میری ذمہ داری نہیں، میری ذمہ داری اسے بیچنا ہے۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا فریم ورک پہلے بن چکا تھا اور مسلسل خسارے کے ساتھ ہی اس کی نجکاری کا عمل شروع ہوچکا تھا، کوئی ایک پارٹی بتا دیں جس نے پی آئی اے کا یہ حال نہ کیا ہو۔
وفاقی وزیر نجکاری نے کہا کہ میرے پاس نجکاری کا جو طے کردہ طریقہ کار ہے اس کے تحت ہی میں نجکاری کا عمل سر انجام دے سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پی آئی اے کا یہ حال نہیں کیا، پی آئی اے کے ساتھ جو ہوا ہے اس میں میرا کوئی کردار نہیں، تمام لوگ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور قومی ایئرلائن کا بیڑا غرق کرنے میں اپنا حصہ تلاش کریں۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ مجھے نہ بتایا جائے کہ کیسے کام کرنا ہے، مجھے ان سب سے بہتر کام کرنا آتا ہے، اگر پی آئی اے ٹھیک کرنے کی ذمہ داری مجھے دی جائے گی تو پھر قوم میرا احتساب کرسکتی ہے۔
وفاقی وزیر نجکاری نے کہا کہ اگر قومی ایئرلائن کو بیچنے میں کوئی کوتاہی ہوگی تو اس کی ذمہ داری میں اٹھاؤں گا لیکن میں خریدار نہیں ہوں، میں صرف نجکاری کے قانون پر عمل درآمد کرسکتا ہوں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس دن بولی ہوئی اس دن میں موجود نہیں تھا، بولی والےدن سعودی عرب میں موجود تھا، میں بولی دینے والے سے کوئی ہینڈ شیک کے لیے نہیں بیٹھنا تھا، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان حکومت ملکرپی آئی اے لے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، یہ پنجاب نہیں پاکستان کی ایئرلائن ہے۔
عبدالعلیم خان نے مزید بتایا کہ مجھے وہ لوگ بھی سمجھا رہے ہیں جو پہلے نجکاری کے وزیر رہ چکے ہیں، یہ لوگ جب خود وزیر تھے اس وقت یہ کام انہیں کرلینا چاہیے تھا، میرے آنے سے پہلے نجکاری کے 25 وزیر رہ چکے ہیں، پی آئی اے ہمارا قومی اثاثہ ہے، اس کو کوڑیوں کے بھاؤ نہیں بیچا جاسکتا، مجھے کاروبار نہ سکھایا جائے، مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے۔

While giving a press conference in Lahore, Abdul Aleem Khan said that it is not my responsibility to fix or run Pakistan International Airlines PIA, my responsibility is to sell it.
Abdul Aleem Khan said that the framework of PIA had already been created and the process of privatization had started with continuous losses.
The Federal Minister of Privatization said that I can carry out the process of privatization only according to the prescribed procedure of privatization. He said that I did not do this situation of PIA, I have no role in what happened to PIA, everyone should look into their own necks and find their part in sinking the fleet of the national airline.
Abdul Aleem Khan said that I should not be told how to work, I know how to work better than all of them, if the responsibility of fixing PIA is given to me, then the nation can hold me accountable.
The federal minister of privatization said that if there is any shortcoming in selling the national airline, I will take responsibility for it, but I am not a buyer, I can only implement the law of privatization and cannot change it.
He said that I was not present on the day the bid was made, the bidder was in Saudi Arabia, I was not supposed to sit for a handshake with the bidder. So we don’t mind, it’s a Pakistani airline not Punjab.
Abdul Aleem Khan further said that I am also being explained by people who have been the Minister of Privatization before, these people should have done this work when they were Ministers themselves, there have been 25 Ministers of Privatization before my arrival. IA is our national asset, it can’t be sold for cheap, I can’t be taught business, I feel my responsibility.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Optimized by Optimole