
لندن:توانائی کی کھپت میں خوفناک حد تک اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔فیول سیل ٹیکنالوجی کی کمپنی سیریز پاور کی چیف ٹیکنالوجی آفیسر نے خبردار کیا ہے کہ اعلیٰ کارکردگی کے لیے مصنوعی ذہانت کے آلات کے بڑھتے استعمال کے سبب توانائی کی کھپت میں اضافے کے خطرے کا امکان ہے۔ایک پینل میں گفتگو کرتے ہوئے کیرولین ہارگروو کا کہنا تھا کہ اگر معمولی سے کام کے لیے بھی چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا جا رہا ہے تو انہیں اس میں ہونے والی توانائی کی کھپت سے ڈر ہے۔جنوری میں شائع ہونے والی انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک عام گوگل سرچ 0.3 واٹ آور بجلی استعمال کرتی ہے جبکہ چیٹ جی ٹی پی کے ایک سرچ میں 2.9 واٹ آور بجلی استعمال ہوتی ہے۔جب یہ ٹیکنالوجی روزانہ کی 9 ارب سرچز سے جڑے گی تو اس کے لیے سالانہ 10 ٹیرا واٹ آور اضافی بجلی درکار ہوگی۔رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ 2026 میں مصنوعی ذہانت کی صنعت میں بجلی کی کھپت 2023 کے مقابلے میں کم از کم 10 گُنا زیادہ متوقع ہے۔
London: The fear of an alarming increase in energy consumption has arisen. The chief technology officer of fuel cell technology company Series Power has warned that the increasing use of artificial intelligence devices for high efficiency will lead to an increase in energy consumption. The risk is there. Speaking on a panel, Caroline Hargrove said she fears the energy consumption of ChetGPT if it’s being used for even minor tasks. Published in January. According to a report by the International Energy Agency, a typical Google search consumes 0.3 watt-hours of electricity, while a single search on ChatGTP uses 2.9 watt-hours of electricity. When this technology is connected to 9 billion daily searches, its This will require 10 terawatt-hours of additional electricity annually. The report clearly states that electricity consumption in the artificial intelligence industry is expected to be at least 10 times higher in 2026 than in 2023.
