Saturday, May 2Contact: 0321-4955559 _____ Newswaraq01@gmail.com

چیف جسٹس کی علماء سے مبارک ثانی کیس کے فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی کی درخواست

Chief Justice’s request to scholars to point out mistakes in the decision of Mubarak Sani case

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے، اس لئے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں، میری ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی غلط فیصلہ نہ ہو، عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں اور اعتراض ہیں ہمیں ان کی نشاندہی کریں۔
اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہئے، معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے، مبارک ثانی کیس کی نظرثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علماء کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا، کہا گیا کہ حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے عدالت میں موجود مولانا فضل الرحمان، مفتی شیر محمد اور دیگر موجود علماء سے معاونت لینے کا فیصلہ کیا، ابو الخیرمحمد زبیر، جماعت اسلامی کے فرید پراچہ بھی عدالت کی معاونت کریں گے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے مفتی تقی عثمانی سے بھی معاونت کا کہا تھا وہ ترکیہ میں ہیں، ہم نے مفتی منیب الرحمان کو آنے کی زحمت دی وہ نہیں آئے، اس پر مفتی منیب کے نمائندے نے کہا کہ مجھے مفتی منیب الرحمان نے بھیجا ہے۔
دوران سماعت علامہ تقی عثمانی نے عدالت کی معاونت کرتے ہوئے 29 مئی کے فیصلے سے دو پیراگراف حذف کرنے کا مطالبہ کر دیا، انہوں نے کہا کہ فیصلے کے پیراگراف 7 اور 42 کو حذف کردیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ تقی عثمانی صاحب میں معذرت چاہتا ہوں، وضاحت کرنا چاہتا ہوں جنہیں نوٹس کیا تھا ان کی جانب سے ہمیں بہت سارے دستاویزات ملے، اگر ان سب کا بغور جائزہ لیتے تو شاید فیصلے کی پوری کتاب بن جاتی، ان تمام دستاویزات کو دیکھ نہیں سکا وہ میری کوتاہی ہے، عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں اور اعتراض ہے ہمیں نشاندہی کریں، اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو ہم سوال کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے اس لیے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں، میں غلطی سے بالاتر نہیں ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 6 فروری کا فیصلہ نظرثانی کے بعد پیچھے رہ گیا ہے، اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہیے، میرا مؤقف ہے کہ ہم امریکا، برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں اپنی کیوں نہ دیں؟ کوئی میٹرک کا امتحان نہ دے تو فیل ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔

Chief Justice Qazi Faiz Isa said that I am not above any mistake, our country is an Islamic state, that’s why we refer to Quran and Hadith in judicial decisions. Ho, point out to us the errors and objections in the judgment.
The Attorney General pleaded that now we should look forward, if the matter is religious, then the Ulama should be heard. That the government should approach the Supreme Court.
The Supreme Court decided to take assistance from Maulana Fazlur Rehman, Mufti Sher Muhammad and other scholars present in the court, Abu Al Khair Muhammad Zubair, Farid Paracha of Jamaat-e-Islami will also assist the court.
Chief Justice Qazi Faiz Isa said that we had also asked Mufti Taqi Usmani for assistance. He is in Turkey. Ur Rahman has sent.
During the hearing, Allama Taqi Usmani, assisting the court, demanded the deletion of two paragraphs from the judgment of May 29. He said that paragraphs 7 and 42 of the judgment should be deleted.
The Chief Justice said that Taqi Usmani sir, I want to apologize, I want to explain that we got a lot of documents on behalf of those who had given notice, if we had carefully examined all of them, maybe a whole book of judgment would have been made, all these documents. Couldn’t see that is my mistake, point out the mistakes and objections in the court decision, if we don’t understand anything, we will ask questions.
The Chief Justice said that our country is an Islamic state, so we refer to Quran and Hadith in judicial decisions, I am not above mistakes.
The Chief Justice said that the decision of February 6 has been left behind after the review, now we should look forward, I think that we give examples of America, Great Britain, why not give ours? There is no risk of failure if one does not take the matriculation exam.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Optimized by Optimole