چیف جسٹس کی علماء سے مبارک ثانی کیس کے فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی کی درخواست
Chief Justice's request to scholars to point out mistakes in the decision of Mubarak Sani case
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے، اس لئے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں، میری ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی غلط فیصلہ نہ ہو، عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں اور اعتراض ہیں ہمیں ان کی نشاندہی کریں۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہئے، معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے، مبارک ثانی کیس کی نظرثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علماء کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا، کہا گیا کہ حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔سپریم کورٹ نے عدالت میں موجود مولانا فضل الرحمان، مفتی شیر محمد اور دیگر موجود علماء سے معاونت لینے کا فیصلہ کیا، ابو الخیرمحمد زبیر، جماعت اسلامی کے فری...

